حدیث نمبر: 812
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: "مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ قَوْلًا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، ثُمَّ رَخَّصَ بَعْدُ: أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: أَدْخُلُ الْكَعْبَةَ وَأَنَا حَائِضٌ ؟، قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتِ تَثُجِّينَهُ ثَجًّا، اسْتَدْخِلِي، ثُمَّ اسْتَثْفِرِي، ثُمَّ ادْخُلِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر

عمار بن ابی عمار نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مستحاضہ کے بارے میں سب سے زیادہ سخت موقف رکھتے تھے، لیکن پھر نرمی اختیار کر لی، ایک خاتون ان کے پاس آئیں اور دریافت کیا کہ میں مستحاضہ ہوں، کعبہ میں داخل ہو سکتی ہوں؟ فرمایا: ہاں، چاہے کتنا ہی خون بہتا ہو تم کعبہ میں داخل ہو سکتی ہو، اچھی طرح روئی باندھو اور اندر چلی جاؤ۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 812
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 816]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور ان الفاظ میں یہ روایت نہیں مل سکی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول حدیث کے مطابق ہے۔