سنن دارمي
من كتاب الطهارة— وضو اور طہارت کے مسائل
باب قَدْرِ الْمَاءِ الذي لاَ يَنْجَسُ: باب: اس پانی کی مقدار کا بیان جو نجس نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس سے درند و چرند پانی پیتے ہیں؟ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی کی مقدار دو بڑے مٹکوں کے برابر ہو تو وہ نجاست کو قبول ہی نہیں کرتا۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 754)
یعنی ایسا پانی مجرد نجاست کے اس میں گر نے سے نجس نہیں ہوتا جب تک کہ اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف تبدیل نہ ہو جائے۔
یعنی ایسا پانی مجرد نجاست کے اس میں گر نے سے نجس نہیں ہوتا جب تک کہ اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف تبدیل نہ ہو جائے۔