حدیث نمبر: 730
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنْ الْمِطْهَرَةِ، وَيَقُولُ: "أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ"، قَالَ: أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هَذَا أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
محمد الیاس بن عبدالقادر

محمد بن زیاد نے کہا: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا جو ہمارے پاس سے گزر رہے تھے اور لوگ لوٹے سے وضو کر رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے: اچھی طرح وضو کرو۔ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”خشک ایڑیوں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔“ ابومحمد نے کہا: یہ روایت میرے نزدیک سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت سے زیادہ پسندیدہ ہے۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 728 سے 730)
اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ «اِسْبِغُوْا الْوُضُوْءَ» سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اور «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وضو کرتے وقت اگر ایڑی سوکھی ره جائے تو ایسا شخص عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 730
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 734]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 165] ، [مسلم 242] ، [ترمذي 41] ، [نسائي 110] ، [ابن ماجه 453] ، [ابن حبان 1088]
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 165 | صحيح مسلم: 242 | سنن ترمذي: 41 | سنن نسائي: 110 | سنن ابن ماجه: 453

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 165 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
´ایڑیوں کے دھونے کے بیان میں`
«. . . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ، قَالَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " . . . .»
. . . محمد بن زیاد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا` وہ ہمارے پاس سے گزرے اور لوگ لوٹے سے وضو کر رہے تھے۔ آپ نے کہا اچھی طرح وضو کرو کیونکہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (خشک) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ غَسْلِ الأَعْقَابِ:: 165]
تشریح:
منشا یہ ہے کہ وضو کا کوئی عضو خشک نہ رہ جائے ورنہ وہی عضو قیامت کے دن عذاب الہیٰ میں مبتلا کیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 165 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 165 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´تمام اعضائے وضو کو مکمل طور پر دھونا`
«. . . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ، قَالَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ . . .»
. . . محمد بن زیاد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا` وہ ہمارے پاس سے گزرے اور لوگ لوٹے سے وضو کر رہے تھے۔ آپ نے کہا اچھی طرح وضو کرو کیونکہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (خشک) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ غَسْلِ الأَعْقَابِ: 165]
تخريج الحديث:
[140۔ البخاري فى: 4 كتاب الوضوء: 29 باب غسل الاعقاب 165، مسلم 242، ترمذي 41]
لغوی توضیح:
«وَیْل» ہلاکت، عذاب، «اَعْقَاب» جمع ہے «عقب» کی، معنی ہے ایڑی، پاؤں کا پچھلا حصہ۔
فھم الحدیث:
ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، اس کے پاؤں میں ناخن برابر جگہ خشک تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، واپس جاؤ اور اچھے طریقے سے وضوء کرو۔ [صحيح: صحيح أبوداود، أبوداود 173، ابن ماجه 665، احمد 146/3]
معلوم ہوا کہ تمام اعضائے وضو کو مکمل طور پر دھونا واجب ہے اور اگر کسی ایک عضو کا کچھ حصہ بھی خشک رہ گیا تو وضوء مکمل نہیں ہو گا۔
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 140 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 165 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
165. محمد بن زیاد کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا، جب وہ ہمارے پاس سے گزرتے اور لوگ برتن سے وضو کر رہے ہوتے تو فرماتے: لوگو! وضو پورا کرو کیونکہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا:’’خشک ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:165]
حدیث حاشیہ: منشا یہ ہے کہ وضو کا کوئی عضو خشک نہ رہ جائے ورنہ وہی عضو قیامت کے دن عذاب الٰہی میں مبتلا کیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 165 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 165 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
165. محمد بن زیاد کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا، جب وہ ہمارے پاس سے گزرتے اور لوگ برتن سے وضو کر رہے ہوتے تو فرماتے: لوگو! وضو پورا کرو کیونکہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا:’’خشک ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:165]
حدیث حاشیہ:
حدیث میں ایڑیوں کا ذکر اس لیے آیا ہے کہ اس وقت ان سے متعلقہ صورت حال سامنے آئی تھی بصورت دیگر اس سے مراد ہر وہ عضو وضو ہے جسے اچھی طرح دھونے میں عام طور پر بے پروائی یا سستی سے کام لیا جاتا ہے مثلاً ایڑیاں اور پاؤں کا نچلا حصہ وغیرہ چنانچہ حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے۔
حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خشک ایڑیوں اور پاؤں کے تلوؤں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔
‘‘(مسند أحمد: 191/4)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن سیرین کا عمل اسی مقصد کے لیے بیان فرمایا ہے کیونکہ بعض اوقات انگوٹھی تنگ ہوتی ہے اور سہولت کے ساتھ پانی نہیں پہنچ پاتا، اس لیے آپ اسے حرکت دیتے۔
(فتح الباري: 350/1)
اسی طرح عام طور پر عورتیں اپنے چہرے کے میک اپ کے لیے ایسی اشیاء استعمال کرتی ہیں کہ اعضائے وضو تک پانی پہنچانے کے لیے ان کی جمی ہوئی تہ رکاوٹ بن جاتی ہے مثلاً: ہونٹوں کے لیے لپ سٹک، چہرے کے لیے تہ دار پاؤڈر اور ناخن پالش وغیرہ لہٰذا خواتین کو چاہیے کہ ایسے سامان زیبائش کے استعمال سے اجتناب کریں جو اعضائے وضو کی جلد تک پانی پہنچانے کے لیے رکاوٹ کا باعث ہو۔
ہاں مخصوص ایام میں اپنے خاوند کے لیے اس طرح کا سامان زینت استعمال کرنے میں چنداں حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 165 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 242 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’ایڑیوں کے لیے آگ سے عذاب ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:575]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: تمام احادیث بالال کا مقصود یہ ہے کہ پاؤں کا دھونا لازم ہے، اس کے دھوئے بغیر چارہ نہیں ہے، موزوں یا جرابوں کے بغیر پاؤں کا مسح کرنا کافی نہیں ہے اور دھونے کے ساتھ مسح کی ضرورت نہیں، ان لوگوں کی رائے درست نہیں ہے جو پاؤں کےلیے مسح کو ضروری قرار دیتے ہیں یا غسل اور مسح میں اختیار دیتے ہیں یا دونوں کو ضروری قرار دیتے ہیں، نیز پاؤں مکمل طور پر دھویا جائے گا، ایڑیوں کے خشک رہنے کا احتمال رہنے کا احتمال ہے اس لیے ان کو دھونے کی خصوصی طو رپر تاکید کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 242 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 242 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہؓ نے کچھ لوگوں کو لوٹے سے وضو کرتے دیکھا، تو کہا: ’’وضو مکمل کرو! کیونکہ میں نے ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ایڑیوں کے لیے آگ کے باعث تباہی و ہلاکت ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:574]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
مَطْهَرَةٌ: اگر میم پر زیر ہو تو معنی ہو گا، وضو کرنے کا آلہ (جس برتن سے بھی وضو کیا جائے)
، اور اگر میم پر زبر پڑھیں تو معنی ہو گا، دھونے کی جگہ، یہاں برتن مراد لینا ہی زیادہ مناسب ہے۔
(2)
عَرَاقِيب: عرقوب کی جمع ہے، ایڑی کے اوپر کا پٹھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 242 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 41 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی برتنے والوں کے لیے خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 41]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر پیروں میں موزے یا جراب نہ ہو تو ان کا دھونا واجب ہے، مسح کافی نہیں جیسا کہ شیعوں کا مذہب ہے، کیونکہ اگرمسح سے فرض ادا ہو جاتا تو نبی اکرم ﷺ ((وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ وَبُطُونِ الْأَقْدَامِ مِنْ النَّارِ)) نہ فرماتے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 41 سے ماخوذ ہے۔