حدیث نمبر: 714
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بسم اللہ نہ کہے اس کا وضو نہیں۔“

وضاحت:
(تشریح احادیث 712 سے 714)
اس حدیث کے پیشِ نظر امام احمد رحمہ اللہ نے وضو سے پہلے بسم اللہ کہنا واجب قرار دیا ہے۔
اور ائمہ ثلاثہ (رحمہم اللہ) نے مسنون کہا ہے۔
اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے عمداً بسم اللہ نہ کہا اس کا وضو نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 714
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 718]» ¤ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 397] ، [مسند أبى يعلی 1060، 1221] ، [دارقطني 71/1] و [ابن أبى شيبه 3/1]
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 397

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 397 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان۔`
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو وضو سے پہلے «بسم اللہ» نہ کہے اس کا وضو نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 397]
اردو حاشہ:
اس حدیث کی روشنی میں بعض علماء نے وضو کے شروع میں ’’بسم الله‘‘ پڑھنے کو واجب قرار دیا ہے اور بعض علماء نے اسے سنت قرار دیا ہے۔
ان کے نزدیک ’’وضو نہیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ’’کما حقہ مکمل وضو نہیں‘‘ لیکن یہ تاویل بلا دلیل ہے
(2)
اگر’’بسم الله‘‘ۃبھول گئی اور وضو کے دوران میں یاد آئی تو فوراً پڑھ لے، تاہم وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بھول چوک معاف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 397 سے ماخوذ ہے۔