حدیث نمبر: 694
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ مِنْهُنَّ رَجِيعٌ"، يَعْنِي: الِاسْتِطَابَةَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

عمارة بن خزيمۃ بن ثابت الانصاری نے اپنے باپ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(استنجاء) تین پتھروں سے کرنا چاہیے جن میں گوبر نہ ہو۔“

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 694
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 698]» ¤ اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [المصنف 154/1] ، [مسند أحمد 213/5] ، [أبوداؤد 41] ، [ابن ماجه 315] و [البيهقي 103/1] ۔ نیز دیکھئے: [نيل الأوطار 177/1]
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 41 | سنن ابن ماجه: 315 | مسند الحميدي: 436 | مسند الحميدي: 437

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 41 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان`
«. . . فَقَالَ:" بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ . . .»
. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 41]
فوائد و مسائل:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم صحیح حدیث میں گوبر اور ہڈی سے استنجا کی ممانعت ثابت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث: 262]
غالباً اسی لیے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 41 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 315 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان۔`
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: استنجاء کے لیے تین پتھر ہوں جن میں گوبر نہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 315]
اردو حاشہ:
(رَجِيع)
كا لفظ گوبر لید اور انسانی فضلہ سب کے لیے بولا جاتا ہے یہاں اس کا ترجمہ گوبر اور لید اس لیے کیا گیا ہے کہ دوسری احادیث میں (روث)
کا لفظ ہے جو گدھے گھوڑے وغیرہ کی لید کے لیے بولا جاتا ہے۔
جب لید اور گوبر سے استنجا منع ہے تو انسانی فضلہ کا استعمال بدرجہ اولی منع ہوگا اس سے ماقبل کی روایت سے بھی جو صحیح ہے گوبر اور لید کے عدم استعمال کا اثبات ہوتا ہے اس لیے معناً یہ روایت بھی صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 315 سے ماخوذ ہے۔