حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ، بِهِنَّ فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جب پائخانہ کو جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، ان سے استنجا کرے وہ کافی ہے۔“

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 693
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 697]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 133/6] ، [أبوداؤد 40] ، [نسائي 41/1] ، [البيهقي 103/1] ، [دارقطني 54/1] ، [شرح معاني الآثار 121/1] و [نيل الأوطار 110/1]
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 40 | سنن نسائي: 44

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 40 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان`
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ . . .»
". . . ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، انہی سے استنجاء کرے، یہ اس کے لیے کافی ہیں . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 40]
فوائد و مسائل:
➊ ہدایت ہے کہ رفع حاجت کے لیے بیٹھنے سے پہلے طہارت حاصل کرنے کا انتظام کر لیا جائے۔ ممکن ہے برموقع کوئی چیز مہیا نہ ہو لہٰذا غیر معتمد مقامات پر نل کو پہلے دیکھ لیا جائے کہ آیا اس میں پانی بھی ہے یا نہیں۔
➋ ڈھیلے کا حکم سائل کے بدوی ہونے کی مناسبت سے ہے اور یہ ہے کہ تین ڈھیلوں سے استنجا پانی سے کفایت کرتا ہے آج کل ٹشو پیپر اس کا قائم مقام ہے، تاہم افضلیت پانی ہی کے استعمال میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 40 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 44 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´صرف پتھر اور ڈھیلے سے استنجاء کے کافی ہونے اور پانی کے ضروری نہ ہونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 44]
44۔ اردو حاشیہ: ➊ ڈھیلے استنجا کے لیے کافی ہیں، بشرطیکہ ان سے پوری صفائی ہو جائے، یعنی نہ تو گندگی کا اثر باقی رہے اور نہ بدبو۔ اگر ایسی صورت حال پیدا ہو جائے کہ ڈھیلوں سے صحیح صفائی نہ ہو سکے یا بدبو زائل نہ ہو تو پانی استعمال کرنا ضروری ہے۔
➋ مٹی میں صفائی کرنے اور بدبو ختم کرنے کی خاصیت رکھی گئی ہے، اس لیے پانی کی عدم موجودگی میں اس سے طہارت حاصل کرنا شرعاً و عقلاً درست ہے۔ اسی طرح مٹی کی عدم موجودگی میں جو بھی چیز نجاست کے زائل کرنے اور طہارت کے حصول میں مفید ثابت ہو، اسے استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے روئی اور ٹشو پیپر وغیرہ۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 44 سے ماخوذ ہے۔