سنن دارمي
من كتاب الطهارة— وضو اور طہارت کے مسائل
باب التَّسَتُّرِ عِنْدَ الْحَاجَةِ: باب: قضائے حاجت کے وقت پردہ پوشی کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْرُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا، فَلَا حَرَجَ، مَنْ اسْتَجْمَرَ، فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا، فَلَا حَرَجَ، مَنْ أَكَلَ فَلْيَتَخَلَّلْ، فَمَا تَخَلَّلَ، فَلْيَلْفِظْ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ، فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ أَتَى الْغَائِطَ، فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبَ رَمْلٍ، فَلْيَسْتَدْبِرْهُ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ يَتَلَاعَبُونَ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا، فَلَا حَرَجَ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سرمہ لگائے تو طاق بار لگائے، جو کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو کوئی حرج نہیں، اور جو ڈھیلے سے استنجا کرے تو طاق بار کرے، جو کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرے، پھر خلال سے کچھ نکلے تو اسے پھینک دے، اور جو زبان سے لگا رہے اسے نگل جائے، جو ایسا کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص پائخانہ کو جائے تو آڑ میں ہو جائے، اگر کچھ بھی آڑ نہ ہو ریت کے ایک ڈھیر کے سوا تو اس کی آڑ میں بیٹھ جائے اس لئے کہ شیاطین آدمی کی شرم گاہ سے کھیلتے ہیں، جو شخص ایسا کرے گا تو بہتر، نہ کرے تو کوئی حرج نہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ مَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں، جو شخص (استنجاء کے لیے) پتھر یا ڈھیلا لے تو طاق لے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرنے سے جو کچھ نکلے اسے پھینک دے، اور جسے زبان سے نکالے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، جو شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو بالو یا ریت کا ایک ڈھیر لگا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے ۱؎، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی مضائقہ نہیں . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 35]
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس میں جو باتیں دوسری احادیث سے ثابت ہیں، وہ قابل عمل ہیں۔ دیگر باتوں پر عمل کرنا ضروری نہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں حدیث میں مذکور ہر کام طاق بار کرنا چاہیے۔