حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ كَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ ؟، قَالَ: "لَا، مِثْلَ الْقَمَرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو تلوار کی طرح دیکھا (یعنی کیا آپ کا چہرہ تلوار کی طرح لمبا اور پتلا تھا؟) انہوں نے کہا: نہیں، آپ کا چہرہ مبارک تو چودہویں کے چاند کی طرح (گول اور خوبصورت) تھا۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 65
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 65]» ¤ یہ روایت صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 3552] و [صحيح ابن حبان 6287]
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3552 | سنن ترمذي: 3636

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3552 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3552. حضرت ابو اسحاق سبیعی سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیا: کیا نبی ﷺ کا چہرہ تلوار کی طرح(لمبا اور پتلا)تھا؟انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی طرح(گول اور چمکدار) تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3552]
حدیث حاشیہ: گول سے یہ غرض نہیں کہ بالکل گول تھا بلکہ گولائی تھی۔
عرب میں یہ حسن میں داخل ہے، اس کے ساتھ آپ کے رخسار پھولے نہ تھے، بلکہ صاف تھے جیسے دوسری روایت میں ہے۔
داڑھی آپ کی گول اور گھنی ہوئی، قریب تھی کہ سینہ ڈھانپ لے، بال بہت سیاہ، آنکھیں سرمگیں، ان میں لال ڈورا تھا۔
الغرض آپ حسن مجسم تھے۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3552 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3552 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3552. حضرت ابو اسحاق سبیعی سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیا: کیا نبی ﷺ کا چہرہ تلوار کی طرح(لمبا اور پتلا)تھا؟انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی طرح(گول اور چمکدار) تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3552]
حدیث حاشیہ:
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے مطابق آپ کا چہرہ بدر کا مل(چودھویں کے چاند)
کی طرح چمکدار اور گولائی لیے ہوئے تھا اور حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مطابق آپ کا چہرہ ماہ وخورشید کی طرح روشن وتابناک اورقدرے گول تھا۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6084(2344)
حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ایسالگتا کہ سورج طلوع ہورہا ہے۔
(سنن الدارمي: 31/1)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس پُرنور اور انتہائی خوبصورت تھا۔
جب کوئی آپ کے چہرے کی رعنائی بیان کرتا تو چودھویں کے چاند سے تشبیہ دیتا،یعنی لوگوں کو آپ کاروئے زیبا چمکتے ہوئے چاند کی طرح جگمگاتا ہوا نظر آتا۔
(دلائل النبوة: 298/1)
ان روایات کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا چہرہ لمبائی میں تلوار جیسا نہیں بلکہ گولائی میں چاند جیسا تھا۔
چاند میں گولائی اورچمک دونوں پائی جاتی ہیں۔
لہذا تلوار سے تشبیہ دینے کی نسبت چاند سے تشبیہ دینے میں فوقیت پائی جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3552 سے ماخوذ ہے۔