سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب تَأْوِيلِ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تاویل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 611
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا حُدِّثْتُمْ شَيْئًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْدَى، وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى، وَالَّذِي هُوَ أَهْيَأُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعبدالرحمٰن السلمی سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی جائے تو یقین رکھو کہ وہ سب سے زیادہ ہدایت والی، تقویٰ والی، اور موافقت والی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 609 سے 611)
علامہ نواب وحید الزماں خان نے لکھا ہے: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو انتہائی درجہ کا تقویٰ و ہدایت سمجھو، حدیثوں کو محامل صحیحہ پر اتارو اور ان میں تعارض و تناقض کا خیال نہ کرو، اور جو منطوق حدیث ہو اسی کو تقویٰ اور ہدایت جانو، اس کے خلاف کو مطلق بہتر نہ سمجھو۔
علامہ نواب وحید الزماں خان نے لکھا ہے: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو انتہائی درجہ کا تقویٰ و ہدایت سمجھو، حدیثوں کو محامل صحیحہ پر اتارو اور ان میں تعارض و تناقض کا خیال نہ کرو، اور جو منطوق حدیث ہو اسی کو تقویٰ اور ہدایت جانو، اس کے خلاف کو مطلق بہتر نہ سمجھو۔