سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في الْكُتُبِ قَبْلَ مَبْعَثِهِ: باب: پچھلی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "إِنَّا لَنَجِدُ صِفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَحِرْزًا، لِلْأُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، سَمَّيْتُهُ الْمُتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ، وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا صَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَتَجَاوَزُ، وَلَنْ أَقْبِضَهُ حَتَّى يُقِيمَ الْمِلَّةَ الْمُتَعَوِّجَةَ بِأَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، نَفْتَحُ بِهِ أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًا، وَقُلُوبًا غُلْفًا"، قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ: أَنَّهُ سَمِعَ كَعْبًا يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ سَلَامٍ.عبدالله بن سلام کہا کرتے تھے ہم (توراة میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف یوں پاتے ہیں: ہم نے تم کو گواہ بنا کر، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا اور اَن پڑھ قوم کی نگہبانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے، تم میرے بندے اور رسول ہو، میں نے جن کا نام متوکل رکھا ہے، جو نہ بدخو ہے اور نہ سنگ دل اور نہ بازاروں میں شور مچانے والا ہے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتا ہے، بجائے اس کے درگزر کرتا ہے، اور میں اس وقت تک ہرگز اس کی روح قبض نہ کروں گا جب تک کہ وہ ایک کجر و قوم کو «لا اله الا الله» کی گواہی کے ذریعہ سیدھا نہ کر دے اور اس کے ذریعہ نابینا آنکھیں بینا نہ ہو جائیں اور بہرے کان کھول نہ دیئے جائیں اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کے پردے کھول نہ دیئے جائیں۔
عطا بن یسار نے کہا : مجھے ابوواقد اللیثی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے حضرت کعب الاحبار کو بھی ایسا ہی کہتے سنا جیسا عبداللہ بن سلام نے بیان کیا۔