سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب الْبَلاَغِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَعْلِيمِ السُّنَنِ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر تبلیغ اور سنتوں کی تعلیم کا بیان
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَمِّهِ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَتَبَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "إِنَّ الْعِلْمَ كَالْيَنَابِيعِ يَغْشَاهُنَّ النَّاسُ، فَيَخْتَلِجُهُ هَذَا وَهَذَا، فَيَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَإِنَّ حِكْمَةً لَا يُتَكَلَّمُ بِهَا كَجَسَدٍ لَا رُوحَ فِيهِ، وَإِنَّ عِلْمًا لَا يُخْرَجُ كَكَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ، وَإِنَّمَا مَثَلُ الْعَالِمِ كَمَثَلِ رَجُلٍ حَمَلَ سِرَاجًا فِي طَرِيقٍ مُظْلِمٍ يَسْتَضِيءُ بِهِ مَنْ مَرَّ بِهِ، وَكُلٌّ يَدْعُو لَهُ بِالْخَيْرِ".محمد بن اسحاق نے اپنے چچا موسیٰ بن یسار سے بیان کیا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو لکھا: علم چشموں کی طرح ہے جس پر لوگ وارد ہوتے ہیں، اور وہ سب اس کو کھنگالتے ہیں، اور کئی آدمی اس سے مستفید ہوتے ہیں، اور وہ حدیث حکمت جس کی تبلیغ نہ کی جائے اس جسم کے مانند ہے جس میں روح نہ ہو، اور وہ علم جو پھیلایا نہ جائے اس خزانے کے مانند ہے جس سے خرچ نہ کیا جائے، عالم کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس نے اندھیرے راستے میں چراغ رکھ دیا، جس سے ہر گزرنے والے کو روشنی ملتی ہے، اور ہر آدمی اس کے لئے دعائے خیر کرتا ہے۔
«اختلج يختلج» کسی چیز کو کھینچ کر نکالنا۔