حدیث نمبر: 564
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "كَانَ عَبِيدَةُ يَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّ خَمِيسٍ، فَيَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ غَابَ عَنْهَا، فَكَانَ عَامَّةُ مَا يُحْفَظُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِمَّا يَسْأَلُهُ عَبِيدَةُ عَنْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

ابراہیم سے مروی ہے کہ عبیدہ (بن عمر السلمانی) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ہر جمعرات کو حاضر ہوا کرتے تھے اور جو بات سمجھ میں نہ آتی اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے، اس لئے عمومی طور پر ابراہیم کے پاس سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو کچھ تھا وہ وہی مسائل تھے جو عبیدہ ان سے پوچھا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 564
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 564]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6469] و [طبقات ابن سعد 124/6]