حدیث نمبر: 562
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى، وَقَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ يَسْتَفْتُونَهُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَوَقَفَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ تُنْهَ عَنْ الْفُتْيَا ؟ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: "أَرَقِيبٌ أَنْتَ عَلَيَّ ؟ لَوْ وَضَعْتُمْ الصَّمْصَامَةَ عَلَى هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ ظَنَنْتُ أَنِّي أُنْفِذُ كَلِمَةً سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُجِيزُوا عَلَيَّ لَأَنْفَذْتُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

ابوکثیر نے بیان کیا کہ میرے والد نے کہا: میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جب کہ وہ جمرہ وسطی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور لوگ ان کے پاس جمع ہو کر فتوے پوچھ رہے تھے، ایک شخص آ کر ان کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: کیا تم فتویٰ دینے سے باز نہ آؤ گے؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنی نظریں اوپر اٹھائیں اور کہا: کیا تم میرے اوپر نگراں ہو؟ اگر تم میری گردن پر تلوار بھی رکھ دو اور مجھے ایک کلمہ کہنے کی بھی مہلت محسوس ہو جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو گردن کٹنے سے پہلے میں اس کو ضرور سنا دوں گا۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 562
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 562]» ¤ اس روایت میں ابوکثیر کا نام مختلف فیہ ہے، اور ان کے والد مجہول ہیں۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 160/1]