حدیث نمبر: 558
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَالنَّاسِكُ إِذَا نَسَكَ لَمْ يُعْرَفْ مِنْ قِبَلِ مَنْطِقِهِ، وَلَكِنْ يُعْرَفُ مِنْ قِبَلِ عَمَلِهِ، فَذَلِكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

عمارة بن مہران سے مروی ہے امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے ایسی جماعت کو پایا کہ ان میں کوئی عبادت گزار جب عبادت کرتا تو اس کی گفتگو سے اس کا پتہ نہیں لگ پاتا تھا، لیکن اپنے عمل سے وہ پہچان لئے جاتے، نفع بخش علم یہی ہے۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 556 سے 558)
یعنی جس علم کے ساتھ عمل ہو وہی فائدے مند ہے، نیز دکھاوا اور ریا و نمود عمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 558
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 558]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے، اور اسے صرف امام دارمی نے روایت کیا ہے۔