حدیث نمبر: 555
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، حَدَّثَنِي فُلَانٌ الْعُرَنِيُّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَا يَدَعُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى يَسْأَلَهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَمَّا أَفْنَوْا فِيهِ أَعْمَارَهُمْ، وَعَمَّا أَبْلَوْا فِيهِ أَجْسَادَهُمْ، وَعَمَّا كَسَبُوا وفِيمَا أَنْفَقُوا، وَعَمَّا عَمِلُوا فِيمَا عَلِمُوا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: قیامت کے دن جب کہ لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ بندوں کو چار چیزیں پوچھنے سے پہلے نہیں چھوڑے گا۔ اپنی عمر کیسے گزاری؟ اپنے جسم کس کام میں استعال کئے؟ مال کیسے کمایا اور کس میں خرچ کیا؟ اور جو علم حاصل کیا اس پر عمل کتنا کیا؟

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 555
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف فيه جهالة
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 555]» ¤ اس روایت کی سند میں فلاں العرنی مجہول ہیں، اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔