سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ كَرِهَ الشُّهْرَةَ وَالْمَعْرِفَةَ: باب: جس نے شہرت اور خاص پہچان کو ناپسند کیا اس کا بیان
حدیث نمبر: 548
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: "وَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْ عَمَلِي كَفَافًا لَا لِي وَلَا عَلَيَّ".محمد الیاس بن عبدالقادر
صالح (بن صالح بن حي) نے کہا: میں نے امام شعبی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: میری آرزو ہے کاش میں اپنے علم میں برابر سرابر ہی چھوٹ جاؤں، نہ مجھے کچھ ملے (نہ مؤاخذہ ہو) نا گناہ کا مجھ پر بوجھ ہو۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 547)
ایسا شدتِ مؤاخذہ کے ڈر سے انہوں نے کہا: «﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ [البروج: 12]» ترجمہ: ”بے شک تیرے رب کی پکڑ یقینا بہت سخت ہے۔
“
ایسا شدتِ مؤاخذہ کے ڈر سے انہوں نے کہا: «﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ [البروج: 12]» ترجمہ: ”بے شک تیرے رب کی پکڑ یقینا بہت سخت ہے۔
“