حدیث نمبر: 545
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَسْوَدَ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: "شَاوَرْتُ مُحَمَّدًا فِي بِنَاءٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبْنِيَهُ فِي الْكَلَّاءِ، قَالَ: فَأَشَارَ عَلَيَّ، وَقَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَسَاسَ الْبِنَاءِ فَآذِنِّي حَتَّى أَجِيءَ مَعَكَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَمْشِي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَمَشَى مَعَهُ، فَقَامَ، فَقَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَّا لَا، فَاذْهَبْ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: أَنْتَ أَيْضًا فَاذْهَبْ، قَالَ: فَذَهَبْتُ حَتَّى خَالَفْتُ الطَّرِيقَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

عبداللہ بن عون نے کہا: میں نے محمد (ابن سیرین رحمہ اللہ) سے کھیت میں گھر بنانے کے بارے میں مشورہ کیا، انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: جب تمہارا بنیاد رکھنے کا ارادہ ہو تو مجھے خبر کرنا، لہٰذا جب میں ان کے پاس آیا اور ہم دونوں چلنے لگے کہ اچانک ایک آدمی آیا اور ان کے پیچھے چلنے لگا، محمد رحمہ اللہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: تمہاری کوئی ضرورت ہے؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: جب کوئی حاجت نہیں ہے تو جاؤ، پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جاؤ تم بھی جاؤ، لہٰذا میں بھی (انہیں چھوڑ کر) دوسرے راستے سے روانہ ہو گیا۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 542 سے 545)
ان آثار سے معلوم ہوتا ہے اسلاف کرام شہرت سے اور اپنے پیچھے کسی کے چلنے سے احتیاط برتتے تھے کیوں کہ اپنے پیچھے شاگردوں یا متبعین کی بھیڑ دیکھ کر کبر و غرور کے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ بہت ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 545
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 545]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 267/2]