حدیث نمبر: 533
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ دَعَا إِلَى أَمْرٍ وَلَوْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا، كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَوْقُوفًا بِهِ، لَازِمًا بِغَارِبِهِ , ثُمَّ قَرَأَ: وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ سورة الصافات آية 24".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی چیز کی طرف بلائے چاہے ایک آدمی ایک آدمی ہی کو دعوت دے تو وہ قیامت کے دن اس دعوت کی بنا پر روک دیا جائے گا، اس کی دعوت کا وبال اسے چمٹا ہو گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾» ”انہیں روک لو، کیونکہ ان سے سوال کئے جائیں گے۔ “ [الصافات: 24/37]

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 533
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 533]» ¤ لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3226] ، [التاريخ الكبير للبخاري 86/2] ، [المستدرك 430/2] ، [تفسير طبري 48/23] ، [الدر المنثور 273/5] ، امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے۔
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3228

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3228 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے بھی کسی چیز کی طرف دعوت دی قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ چمٹا اور ٹھہرا رہے گا، وہ اسے چھوڑ کر آگے نہیں جا سکتا اگرچہ ایک آدمی نے ایک آدمی ہی کو بلایا ہو پھر آپ نے آیت «وقفوهم إنهم مسئولون ما لكم لا تناصرون» انہیں روک لو، ان سے پوچھا جائے گا: کیا بات ہے؟ تم لوگ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ (الصافات: ۲۴-۲۵)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3228]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
انہیں روک لو، ان سے پوچھا جائے گا: کیا بات ہے؟ تم لوگ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ (الصافات: 24-25)

نوٹ:

(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3228 سے ماخوذ ہے۔