حدیث نمبر: 502
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَرْوِيَ مِنْ حَدِيثِكَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَعِينَ بِكِتَابِ يَدِي مَعَ قَلْبِي إِنْ رَأَيْتَ ذَلِكَ ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ قَالَهُ: "عِ حَدِيثِي، ثُمَّ اسْتَعِنْ بِيَدِكَ مَعَ قَلْبِكَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی حدیث روایت کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا آپ مناسب خیال فرمائیں تو میرا ارادہ ہے کہ دل کے ساتھ اپنے ہاتھ کی کتابت سے بھی مدد لوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے میری حدیث کو اچھی طرح یاد کر لو پھر اپنے ہاتھ کی کتابت سے دل کے ساتھ مدد بھی لے لو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3646 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´علم کے لکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ” لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3646]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ” لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3646]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
رسول ہر حال میں رسول اور حجت ہوتے ہیں۔
ان کی پوری زندگی ہرحال میں امت کے لئے اتباع نمونہ ہوتی ہے۔
اورپھر محمد رسول اللہ ﷺ توسید الرسل ہیں۔
فائدہ۔
رسول ہر حال میں رسول اور حجت ہوتے ہیں۔
ان کی پوری زندگی ہرحال میں امت کے لئے اتباع نمونہ ہوتی ہے۔
اورپھر محمد رسول اللہ ﷺ توسید الرسل ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3646 سے ماخوذ ہے۔