حدیث نمبر: 498
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَفَّاقٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "إِنَّ نَاسًا يَسْمَعُونَ كَلَامِي، ثُمَّ يَنْطَلِقُونَ فَيَكْتُبُونَهُ، وَإِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَكْتُبَ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
عفان (بن عبداللہ بن مرداس المحاربی) نے اپنے والد (عبدالله) سے روایت کیا کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے: بیشک کچھ لوگ میرا کلام سنتے ہیں پھر جا کر اسے لکھتے ہیں اور میں کسی کے لئے حلال نہیں کرتا کہ وہ اللہ عزوجل کی کتاب کے علاوہ کچھ لکھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 493 سے 498)
یہ سب اس خوف کی بنا پر تھا کہ کتاب اللہ اور سنّتِ رسول اللہ خلط ملط نہ ہو جائے۔
یہ سب اس خوف کی بنا پر تھا کہ کتاب اللہ اور سنّتِ رسول اللہ خلط ملط نہ ہو جائے۔