سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَا أُعْطِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْفَضْلِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو فضیلت عطا کی گئی اس کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنَا أَوَّلُهُمْ خُرُوجًا، وَأَنَا قَائِدُهُمْ إِذَا وَفَدُوا، وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا أَنْصَتُوا، وَأَنَا مُسْتَشْفِعُهُمْ إِذَا حُبِسُوا، وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أَيِسُوا، الْكَرَامَةُ وَالْمَفَاتِيحُ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي، وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي، يَطُوفُ عَلَيَّ أَلْفُ خَادِمٍ كَأَنَّهُمْ بَيْضٌ مَكْنُونٌ، أَوْ لُؤْلُؤٌ مَنْثُورٌ".سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” میں سب سے پہلے نکلنے والا ہوں (یعنی قبر سے) اور میں ان کا راہبر ہوں گا جب وہ (اللہ کی درگاہ میں) حاضر ہوں گے، اور میں ان کا خطیب ہوں گا جب وہ خاموش ہوں گے، اور میں جب وہ روک لئے جائیں گے ان کی شفاعت و سفارش کرنے والا ہوں اور جب مایوس ہو جائیں گے میں ہی خوشخبری سنانے والا ہوں، عز و شرف اور کنجیاں اس دن میرے ہی پاس ہوں گی اور آدم علیہ السلام کی اولاد میں اپنے رب کے نزدیک میں سب سے زیادہ معزز و مکرم ہوں، ہزاروں خادم میرے ارد گرد گھومیں گے گویا کہ وہ چھپائے ہوئے ہیرے اور بکھرے ہوئے موتی ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے تو میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی اور جب وہ دربار الٰہی میں آئیں گے تو میں ان کا خطیب ہوں گا، اور جب وہ مایوس اور ناامید ہو جائیں گے تو میں انہیں خوشخبری سنانے والا ہوں گا، حمد کا پرچم اس دن میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں اپنے رب کے نزدیک اولاد آدم میں سب سے بہتر ہوں اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3610]
نوٹ:
(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)