حدیث نمبر: 48
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَهُ فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْهُمْ، سَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ، فَتَسَمَّعَ حَدِيثَهُمْ، فَإِذَا بَعْضُهُمْ، يَقُولُ: عَجَبًا إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِهِ خَلِيلًا، فَإِبْرَاهِيمُ خَلِيلُهُ، وَقَالَ آخَرُ: مَاذَا بِأَعْجَبَ مِنْ: وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا سورة النساء آية 164، وَقَالَ آخَرُ: فَعِيسَى كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ، وَقَالَ آخَرُ: وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّه، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَسَلَّمَ، وَقَالَ: "قَدْ سَمِعْتُ كَلَامَكُمْ وَعَجَبَكُمْ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ اللَّهِ، وَهُوَ كَذَلِكَ، وَمُوسَى نَجِيُّهُ، وَهُوَ كَذَلِكَ، وَعِيسَى رُوحُهُ وَكَلِمَتُهُ، وَهُوَ كَذَلِكَ، وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَهُوَ كَذَلِكَ، أَلَا وَأَنَا حَبِيبُ اللَّهِ، وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا فَخْرُ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرُ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ بِحَلَقِ الْجَنَّةِ وَلَا فَخْرُ، فَيَفْتَحُ اللَّهُ فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرُ، وَأَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ عَلَى اللَّهِ، وَلَا فَخْرُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھی بیٹھے آپ کا انتظار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے قریب ہوئے اور ان کی باتیں سنیں، کسی نے کہا: تعجب ہے اللہ تعالی نے اپنی مخلوق میں سے ابراہیم علیہ السلام کو دوست بنا لیا اور ابراہیم علیہ السلام اللہ کے خلیل ہیں، دوسرے نے کہا: اللہ تعالیٰ کا موسیٰ علیہ السلام سے کلام کرنا اس سے بھی عجیب تر ہے، ایک نے کہا: اور عیسیٰ علیہ السلام تو الله تعالی کے کلمہ «كُنْ» سے پیدا ہو گئے اور روح ان کی اس کی طرف سے ہے، کسی نے کہا: اور آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پسند کیا، ان کو چن لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے آئے، سلام کیا اور فرمایا: میں نے تمہاری باتیں سنیں اور سنا تمہارا تعجب کرنا ابراہیم کے خلیل ہونے پر اور وہ ایسے ہی ہیں، اور موسیٰ کے اللہ سے نجی (سرگوشی کرنے والا) ہونے پر اور وہ بھی ایسے ہی ہیں، اور تمہیں تعجب ہے عیسٰی کے کلمۃ اللہ و روحہ ہونے پر وہ بھی ایسے ہی ہیں، اور آدم کے پسندیدہ ہونے پر وہ بھی ایسے ہی ہیں (یعنی یہ سب صحیح ہے) اور سنو! میں (بھی) الله کا محبوب ہوں اور اس پر فخر نہیں اور میں ہی قیامت کے دن حمد کے جھنڈے کو اٹھانے والا ہوں جس کے نیچے آدم علیہ السلام اور ان کے بعد کے لوگ ہوں گے۔ اس پر بھی کوئی فخر نہیں، اور میں ہی سب سے پہلا شفاعت کرنے والا اور وہ پہلا شخص ہوں جس کی شفاعت قبول کی جائے گی، اس پر بھی کوئی فخر نہیں، اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جو جنت کے دروازوں کی زنجیریں کھٹکھٹائے گا اور وہ میرے لئے کھول دی جائیں گی اور اللہ تعالی مجھے جنت میں داخل فرمائے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اس میں بھی فخر نہیں، اور میں اللہ کے نزدیک اگلے پچھلے سب لوگوں میں سب سے زیادہ معزز و مکرم ہوں اس پر بھی کوئی فخر نہیں۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 48
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف زمعه
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف زمعه، [مكتبه الشامله نمبر: 48]» ¤ یہ حدیث اس سند سے ضعیف ہے لیکن اس کے شواہد ہیں جو صحیح ہیں۔ دیکھئے: [ترمذي 3620] ، [مسند ابي يعلی 3959، 3964] ، [ابن حبان 6242] نیز آگے دیکھئے حدیث نمبر 53۔
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3616

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3616 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بیٹھے آپ کے حجرے سے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے، کہتے ہیں: پھر آپ نکلے یہاں تک کہ جب آپ ان کے قریب آئے تو انہیں آپس میں بحث کرتے سنا، آپ نے ان کی باتیں سنیں، کوئی کہہ رہا تھا، تعجب ہے اللہ نے اپنی مخلوق میں سے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا، دوسرے نے کہا: موسیٰ سے اس کا کلام کرنا کتنا زیادہ تعجب خیز معاملہ ہے، اور ایک نے کہا: عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اور ایک دوسرے نے کہا: آدم کو اللہ نے تو چن لیا ہے، تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3616]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3616 سے ماخوذ ہے۔