سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب تَعْجِيلِ عُقُوبَةِ مَنْ بَلَغَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فَلَمْ يُعَظِّمْهُ وَلَمْ يُوَقِّرْهُ: باب: حدیث رسول کی توہین و تحقیر پر فوری سزا کا بیان
حدیث نمبر: 458
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ زَمْعَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا"، قَالَ: وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا، فَانْسَلَّ رَجُلَانِ إِلَى أَهْلَيْهِمَا، فَكِلَاهُمَا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے پاس رات میں نہ جاؤ۔“ راوی نے کہا : اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے لوٹے تھے، دو آدمی چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس چلے گئے اور دونوں نے اپنی بیویوں کے پاس آدمی پایا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 456 سے 458)
اگر یہ روایت صحیح ہے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کی سزا تھی جو دنیا ہی میں مل گئی۔
اگر یہ روایت صحیح ہے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کی سزا تھی جو دنیا ہی میں مل گئی۔