سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب تَعْجِيلِ عُقُوبَةِ مَنْ بَلَغَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فَلَمْ يُعَظِّمْهُ وَلَمْ يُوَقِّرْهُ: باب: حدیث رسول کی توہین و تحقیر پر فوری سزا کا بیان
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ، فَقَالَ: لَا تَخْذِفْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَانَ يَنْهَى عَنْ الْخَذْفِ أَوْ كَانَ يَكْرَه الْخَذْفَ"، وَقَالَ: "وَإِنَّهُ لَا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ، وَلَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ، وَلَكِنَّهُ قَدْ يَفْقَأُ الْعَيْنَ، وَيَكْسِرُ السِّنَّ"، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أَلَمْ أُخْبِرْكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْهُ، ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ، وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.عبداللہ بن بریدہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب میں سے ایک آدمی کو کنکری پھینکتے دیکھا. تو فرمایا: کنکری نہ پھینکو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنکری پھینکنے سے منع فرماتے تھے، (دوسری روایت میں ہے) کنکری پھینکنے کو پسند نہیں کرتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ذریعہ نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور نہ شکار کیا جا سکتا ہے، البتہ یہ کبھی آنکھ پھوڑ دیتی ہے اور دانت توڑ دیتی ہے۔“ اس کے بعد پھر اسے کنکری پھینکتے دیکھا تو فرمایا: کیا میں نے تمہیں بتایا نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے؟ اس کے باوجود بھی میں تمہیں کنکری پھینکتے دیکھ رہا ہوں، قسم الله کی اب میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
مسلمان ایک دوسرے کے لیے جسد واحد کی طرح ہیں۔
وہ باہمی مددگار تو ہو سکتے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی تعریف یہ کی ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
اس حدیث میں بھی ایک ادب کی تعلیم دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو کسی طرح بھی تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے۔
آمین۔
حافظ صاحب فرماتے ہیں۔
و في الحدیث جواز ھجر أن من خالف السنة و ترك کلامه ولا یدخل ذالك في النھي عن الھجر فوق ثلاث فإنه یتعلق بمن ھجر بحظ نفسه۔
یعنی اس سے ان لوگوں سے ترک سلام و کلام جائز ثابت ہوا جو سنت کی مخالفت کریں اور یہ عمل اس حدیث کے خلاف نہ ہوگا جس میں تین دن سے زیادہ ترک کلام کی مخالفت آئی ہے۔
اس لیے کہ وہ اپنے نفس کے لیے ہے اور یہ محبت سنت نبوی فداہ روحی کے لیے سچ ہے یہی وہ صراط مستقیم ہے جس سے خدا ملے گا جیسا کہ علامہ طحطاوی نے مفصل بیان فرمایا ہے۔
فان قلت: ماوقومک علی أنك علی صراط مستقیم و کل واحدمن ھٰذہ الفرق یدعي أنه علیه، قلت: لیس ذالك بالإدعاء بل بالنّقل عن جھابذة الصحابة و علماء أھل الحدیث الذین جمعوا صحاح الأحادیث في أمور رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیه وسلم وأحواله وأقواله و حرکاته و سکناته و أحوال أصحابه و الذین اتبعوھم بإحسان، مثل الإمام البخاري و مسلم وغیر ھما من الثّقات المشھور ین الذین اتفق أھل المشرق و المغرب علی صحة مارووہ في کتبھم من أمور النبي صلی اﷲ تعالٰی علیه وسلم و أصحابه رضي اللہ تعالیٰ عنھم ثم بعد النقل ینظر إلی الذي تمسك بھدیھم و افتفٰی أثرھم واھتدی بسیرھم في الأصول و الفروع فیحکم بأنه من الذین ھم وھذا ھو الفارق بین الحق والباطل الممیز بین من ھو علیٰ الصراط المستقیم و بین من ھو علی السبیل الذي یمینه و شماله (طحطاوی حاشیہ در مختار مطبوعہ بولاق قاھرة، جلد: 4، کتاب الذبائح، ص: 135)
اگر تو کہے کہ تجھے اپنا صراط مستقیم پر ہونا کیسے معلوم ہو حالانکہ ان تمام فرقوں میں ہر ایک یہی دعویٰ کرتا ہے تو میں جواب دوںگا کہ یہ صرف دعویٰ کر لینے اور اپنے وہم و گمان کو سند بنا لینے سے ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ اس پر وہ ہے جو علم منقول حاصل کرے اس فن کے ماہر علمائے اہلحدیث سے جن بزرگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث جمع کیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امور اور احوال اور حرکات و سکنات میں مروی ہیں اور جن بزرگوں نے صحابہ کرام انصار و مہاجرین کے حالات جمع کئے جنہوں نے ان کی احسان کے ساتھ پیروی کی جیسے حضرت امام بخاری و حضرت امام مسلم وغیرہ ہیں جو ثقہ لوگ تھے اور مشہور تھے، جن بزرگوں کی وارد کی ہوئی مرفوع و موقوف احادیث کی صحت پر کل علماء مشرق و مغرب متفق ہیں۔
اس نقل کے بعد دیکھا جائے گا کہ ان محدثین کرام کے طریقے کو مضبوط تھامنے والا اور ان کی پوری پوری اتباع کرنے والا اور تمام کلی و جزئی چھوٹے بڑے کاموں میں ان کی روش پر چلنے والا کون ہے۔
اب جو فرقہ اس طریقہ پر ہوگا (یعنی احادیث رسول پر بطریق صحابہ بلا قید مذہب عمل کرنے والا)
اس کی نسبت حکم کیا جائے گا کہ یہی جماعت وہ ہے جو صراط مستقیم پر ہے بس یہی وہ اصول ہے جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے اوریہی وہ کسوٹی ہے جو صراط مستقیم پر ہیں ان میں اوران میں جو اس کے دائیں بائیں ہیں، تمیز کر دیتی ہے۔
(1)
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے غلیل میں پتھر رکھ کر پھینکنے کا اثبات کیا ہے اور اس سے شکار کرنا ناجائز ٹھہرایا ہے کیونکہ غلیلہ اپنے بوجھ اور زور سے شکار کو مارتا ہے، وہ گوشت کو چیرتا نہیں ہے۔
(2)
دور حاضر کی ایجاد بندوق کے ذریعے سے شکار حلال ہے یا حرام؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔
اکثر علماء بندوق کے ذریعے سے کیے ہوئے شکار کو حرام کہتے ہیں لیکن ہمارے رجحان کے مطابق بندوق سے کیا ہوا شکار حلال ہے کیونکہ اس کی گولی، لاٹھی یا چھڑی کی طرح جسم سے نہیں ٹکراتی بلکہ تیر یا کسی بھی تیز دھار آلے کی طرح جسم کو پھاڑ کر نکل جاتی ہے، اور اس کارتوس میں چھوٹے چھوٹے لوہے کے ٹکڑے ہوتے ہیں جو جسم کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔
جن روایات میں بندوق کے شکار کی ممانعت یا کراہت موجود ہے اس سے مراد موجودہ بندوق کی گولی نہیں بلکہ مٹی کی بنی ہوئی گولی ہے جسے غلیلہ کہا جاتا ہے۔
اس سے مارا ہوا شکار موقوذہ کے حکم میں ہے کیونکہ یہ جسم سے ٹکرا کر سخت چوٹ سے جانور کو مار دیتی ہے۔
واللہ أعلم
(1)
يَخْذِفُ: دو انگلیوں میں رکھ کر کنکر پھینکنا، یہ بچوں کا ایک مشغلہ ہے۔
(2)
لَا يُنْكَأُ بِهِ: زخمی کرنا، تکلیف پہنچانا، یعنی اس کے ذریعہ دشمن جو دور ہوتا ہے، اس کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا، ہاں قریبی آدمی کے لیے۔
(3)
يَكْسِرُ السِّنَّ: دانت توڑتا ہے۔
(4)
يَفْقَأُ الْعَيْنَ: اس کی آنکھ پھوڑتا ہے، اس لیے اس سے کسی فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔
فوائد ومسائل: علامہ نووی کے بقول حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ کے عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بدعت، اہل فسق اور تارکین سنت سے قطع تعلق کر لینا جائز ہے اور تین دن سے زائد قطع تعلق کی حرمت ان لوگوں کے لیے ہے، جو اپنے نفس یا کسی دنیاوی وجہ کی بنا پر قطع تعلق کریں۔
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھیل کود اور ہنسی مذاق میں) ایک دوسرے کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا: ” نہ تو یہ کسی شکار کا شکار کرتی ہے، نہ کسی دشمن کو گھائل کرتی ہے۔ یہ تو صرف آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5270]
1۔
بے مقصد کام سے ہر مسلمان کو ہمیشہ رہنا چاہیے بالخصوص بچوں کو دیکھا جاتا ہے کہ بلا مقصد بیٹھےکنکر، پتھر مارتے رہتے ہیں تو یہ ایک لغو اور مضر کام ہے نو خیزبچوں کو عمدہ طریقے سے سمجھاتے رہنا چاہیے تاکہ ا ن کی اٹھان خیر کے اعمال پر ہو۔
2: شکار ایک عمدہ مقصد ہے اور اسی طرح میدان جہاد میں کفار کو نشانہ بنانا بھی ایک فضیلت کا عمل ہے۔
3: نشانہ بازی کی مشق کے لئے اگر یہ کام کرنا ہو تو کسی ایسی جگہ ہونا چاہیے جہاں کسی کے لئے کو ئی ضررنہ ہو۔
4: اگر اس کارستانی میں کسی عاقل بالغ سے کسی کی آنکھ پھوٹ گئی یادانت ٹوٹ گیا، تو دیت لازم آئے گی۔
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو پتھر پھینکتے دیکھا تو کہا: مت پھینکو، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پتھر پھینکنے سے منع فرماتے تھے، یا پتھر پھینکنا آپ کو پسند نہ تھا، یہ کہمس کا شک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4819]
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے ایک رشتہ دار نے کنکری ماری، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے: ” نہ اس (کنکری مارنے) سے شکار ہوتا ہے، اور نہ یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے، اور آنکھ پھوٹ جاتی ہے “، اس شخص نے پھر کنکری ماری تو عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے حدیث بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو، اب میں تم سے کبھی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3226]
فوائد و مسائل:
(1)
خذف کا مطلب غلیل وغیرہ سے کنکر پھینکنا یا انگلیوں میں پکڑ کر کنکر دور پھینکنا ہے۔
(2)
ایسی تفریح سےاجتناب کرنا چاہیے جس سے کسی کو غیر ارادی طور پر نقصان پہنچ سکتا ہو۔
(3)
ایسی چیزوں کے استعمال کی مشق کرنا بہتر ہے جن سے جہاد میں کام لیا جا سکے تاہم اس مشق میں بھی یہ احتیاط ضروری ہے کہ کسی کو نقصان نہ پہنچے۔
(4)
۔
مسئلہ بتاتے وقت ساتھ دلیل ذکر کرنا بہتر ہے اس سے سائل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور عمل کرنے والے کو عمل کی ترغیب ہوتی ہے۔
(5)
کسی کو برائی سے منع کرنے کے لیے اس سے بات چیت بند کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس سے منفی اثرات ظاہر ہونے کا خطرہ نہ ہو۔
(6)
اس سے حدیث نبوی کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ صحابی نے حدیث پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اپنے عزیز کو زجر و توبیخ کی اور اس سے بات چیت بند کر دی۔
(7)
امر ونہی بیان کرتے وقت اس کی حکمت بھی ذکر کرنا مفید ہے۔
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا ایک بھتیجا ان کے بغل میں بیٹھا ہوا تھا، اس نے دو انگلیوں کے درمیان کنکری رکھ کر پھینکی، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ: ”یہ کنکری نہ تو کوئی شکار کرتی ہے، اور نہ ہی دشمن کو زخمی کرتی ہے، البتہ یہ دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے۔“ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ان کا بھتیجا دوبارہ کنکریاں پھینکنے لگا تو انہوں نے کہا: میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 17]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر غلط اور نقصان دہ کام سے منع فرمایا ہے، اگرچہ بظاہر وہ معمولی ہو، کیونکہ بعض اوقات ایک کام بظاہر معمولی نظر آتا ہے، لیکن اس کا انجام معمولی نہیں ہوتا۔
(2)
کسی گناہ کے عام ہو جانے کی وجہ سے بھی ہم اسے معمولی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اللہ کے ہاں وہ بڑا گناہ ہوتا ہے، اس لیے صغیرہ گناہوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔
(3)
ہر وہ کام جس میں کوئی دینی یا دنیوی فائدہ نہ ہو اور نقصان کا اندیشہ ہو، اس سے بچنا ہی چاہیے۔
(4)
گناہ کا ارتکاب کرنے والے کو تنبیہ کرنے کے لیے اور اس کے گناہ سے نفرت کے اظہار کے لیے ملاقات ترک کر دینا جائز ہے، تاکہ وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لے۔
(5)
ہر اس کام سے اجتناب ضروری ہے جس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
مطلب یہ ہے کہ کھیل کوئی با مقصد ہونا چاہیے، بلا وجہ کنکریاں پھینکنا فضول حرکت ہے جس سے کسی کی آنکھ یا دانت ضائع ہو سکتا ہے۔ اس حدیث میں آج کل محلے کے راستوں میں کرکٹ کھیلنے والوں کے لیے راہنمائی ہے کہ انھیں اس ایذا رسانی سے باز آجانا چاہیے۔