سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب تَعْجِيلِ عُقُوبَةِ مَنْ بَلَغَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فَلَمْ يُعَظِّمْهُ وَلَمْ يُوَقِّرْهُ: باب: حدیث رسول کی توہین و تحقیر پر فوری سزا کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا هَارُونُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ خِرَاشِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَتًى يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ شَيْخٌ: لَا تَخْذِفْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ الْخَذْفِ"، فَغَفَلَ الْفَتَى وَظَنَّ أَنَّ الشَّيْخَ لَا يَفْطِنُ لَهُ، فَخَذَفَ، فَقَالَ لَهُ الشَّيْخُ: أُحَدِّثُكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"يَنْهَى عَنْ الْخَذْفِ"ثُمَّ تَخْذِفُ ؟ وَاللَّهِ لَا أَشْهَدُ لَكَ جَنَازَةً، وَلَا أَعُودُكَ فِي مَرَضٍ , وَلَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا، فَقُلْتُ لِصَاحِبٍ لِي يُقَالُ لَهُ مُهَاجِرٌ: انْطَلِقْ إِلَى خِرَاشٍ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَاهُ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَحَدَّثَهُ.خراش بن جبیر نے کہا: میں نے مسجد میں ایک جوان کو دیکھا جو کنکری پھینک رہا تھا، ایک شیخ نے اس سے کہا: کنکری نہ پھینکو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کنکری پھینکنے سے منع کرتے سنا ہے۔ اس جوان نے غفلت برتی اور سمجھا کہ شیخ اس کو دیکھ نہیں رہے ہیں، چنانچہ پھر کنکری پھینکنے لگا تو شیخ نے اس سے کہا: میں تمہیں حدیث بتاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کنکری پھینکنے سے منع فرماتے سنا پھر بھی تم وہی کر رہے ہو؟ قسم خدا کی میں نہ تمہارے جنازے میں آؤں گا نہ بیمار ہوئے تو تمہاری عیادت کروں گا، اور نہ کبھی تم سے بات کروں گا۔ میں نے اپنے ساتھی سے جس کا نام مہاجر تھا کہا: خراش کے پاس جاؤ اور پوچھو، چنانچہ وہ ان کے پاس گئے اور اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث ان سے بھی بیان کی۔ (یعنی اس کی تصدیق کر دی)۔