سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَا يُتَّقَى مِنْ تَفْسِيرِ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلِ غَيْرِهِ عِنْدَ قَوْلِهِ: باب: حدیث کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں دوسروں کے قول سے بچنے کا بیان
حدیث نمبر: 446
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ الله تَعالَيَ: "إِنَّهُ لَا رَأْيَ لِأَحَدٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَإِنَّمَا رَأْيُ الْأَئِمَّةِ فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ كِتَابٌ، وَلَمْ تَمْضِ بِهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا رَأْيَ لِأَحَدٍ فِي سُنَّةٍ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا کہ اللہ کی کتاب میں کسی کی رائے (قابل قبول) نہیں اور ائمہ کرام کی رائے بھی اس بارے میں قبول ہو گی جس میں کتاب اللہ یا سنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ نہ ملے، اور جس سنت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری کیا اس میں رائے کی گنجائش نہیں۔