سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب اجْتِنَابِ أَهْلِ الأَهْوَاءِ وَالْبِدَعِ وَالْخُصُومَةِ: باب: اہل ہوس بدعتی اور متکلمین سے بچنے کا بیان
حدیث نمبر: 416
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أُمَيٍّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِنَّمَا سُمُّوا أَصْحَابَ الْأَهْوَاءِ، لِأَنَّهُمْ يَهْوُونَ فِي النَّارِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہویٰ و ہوس اور نفس کے بندے یہ اس لئے نام زد کئے گئے کیونکہ یہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 413 سے 416)
«الأهواء: هَوَي» کی جمع ہے اور «هَوَيٰ يَهْوِي» کے معنی نیچے گرنا، پس اصحاب الاہواء خواہشِ نفس کے سامنے گر جاتے ہیں اور اسی طرح جہنم میں گر جائیں گے، جیسا کہ مثل مشہور ہے: «الجزاء من جنس العمل» (جیسی کرنی ویسی بھرنی)۔
ان تمام آثار سے یہ ثابت ہوا کہ اہلِ بدعت، فلسفی، نفس پرست، خواہشات کے اسیر لوگوں کے پاس نہ بیٹھنا چاہیے اور نہ ان کی بات سننی چاہیے۔
«الأهواء: هَوَي» کی جمع ہے اور «هَوَيٰ يَهْوِي» کے معنی نیچے گرنا، پس اصحاب الاہواء خواہشِ نفس کے سامنے گر جاتے ہیں اور اسی طرح جہنم میں گر جائیں گے، جیسا کہ مثل مشہور ہے: «الجزاء من جنس العمل» (جیسی کرنی ویسی بھرنی)۔
ان تمام آثار سے یہ ثابت ہوا کہ اہلِ بدعت، فلسفی، نفس پرست، خواہشات کے اسیر لوگوں کے پاس نہ بیٹھنا چاہیے اور نہ ان کی بات سننی چاہیے۔