حدیث نمبر: 406
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: رَآنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ جَلَسْتُ إِلَى طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، فَقَالَ لِي: "أَلَمْ أَرَكَ جَلَسْتَ إِلَى طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ؟ لَا تُجَالِسَنَّهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

ایوب نے کہا: سعید بن جبیر نے مجھے طلق بن حبیب کے پاس بیٹھے دیکھا تو مجھ سے کہا: کیا میں نے تمہیں طلق بن حبیب کے پاس بیٹھے نہیں دیکھا؟ تم (ہرگز) ان کے پاس نہ بیٹھو۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 404 سے 406)
سعید بن جبیر نے اس لئے طلق بن حبیب کے پاس بیٹھنے سے منع کیا کیونکہ وہ مرجئہ میں سے تھے اور انہوں نے دین میں نئی باتیں ایجاد کر لی تھیں۔
کلام اور فلسفہ میں ٹامک ٹویاں مارتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 406
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 406]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [البدع 145] و [الإبانة 413]