سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب التَّوْبِيخِ لِمَنْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِغَيْرِ اللَّهِ: باب: بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
حدیث نمبر: 389
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: "لَا تُحَدِّثْ الْبَاطِلَ الْحُكَمَاءَ فَيَمْقُتُوكَ، وَلَا تُحَدِّثْ الْحِكْمَةَ لِلسُّفَهَاءِ فَيُكَذِّبُوكَ، وَلَا تَمْنَعْ الْعِلْمَ أَهْلَهُ فَتَأْثَمَ، وَلَا تَضَعْهُ فِي غَيْرِ أَهْلِهِ فَتُجَهَّلَ، إِنَّ عَلَيْكَ فِي عِلْمِكَ حَقًّا كَمَا أَنَّ عَلَيْكَ فِي مَالِكَ حَقًّا".محمد الیاس بن عبدالقادر
کثیر بن مرہ نے کہا: باطل کو حکماء (دانشمندوں) سے بیان نہ کرو، وہ تم سے نفرت کرنے لگیں گے، اور حکمت کی بات سفہاء (بےوقوفوں) سے نہ کہو، وہ تمہیں جھٹلا دیں گے، علم کے اہل لوگوں سے علم کو نہ چھپاؤ تم گنہگار ہو گے، اور نااہل لوگوں کو علم نہ سکھاؤ وہ تم کو جاہل سمجھیں گے، تمہارے علم کا تمہارے اوپر حق ہے جس طرح سے تمہارے مال میں تمہارا حق ہے۔