سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب التَّوْبِيخِ لِمَنْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِغَيْرِ اللَّهِ: باب: بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
حدیث نمبر: 373
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: "يَا رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَحْكَمُ ؟، قَالَ: الَّذِي يَحْكُمُ لِلنَّاسِ كَمَا يَحْكُمُ لِنَفْسِهِ، قَالَ: يَا رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَغْنَى ؟، قَالَ: أَرْضَاهُمْ بِمَا قَسَمْتُ لَهُ، قَالَ: يَا رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَخْشَى لَكَ ؟، قَالَ: أَعْلَمُهُمْ بِي".محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے رب! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ دانا و بینا کون ہے؟ فرمایا: وہی جو لوگوں کے لئے بھی وہی فیصلہ کرتا ہے جو اپنے نفس کے لئے فیصلہ کرتا ہے۔ عرض کیا: اے رب! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ غنی کون ہے؟ فرمایا: جو سب سے زیادہ اپنی قسمت سے راضی ہو۔ عرض کیا: اے رب! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ خشیت والا کون ہے؟ فرمایا: جو سب سے زیادہ میرے بارے میں علم والا ہے۔