سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب التَّوْبِيخِ لِمَنْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِغَيْرِ اللَّهِ: باب: بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
حدیث نمبر: 372
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ: "الْعُلَمَاءُ ثَلَاثَةٌ: فَرَجُلٌ عَاشَ فِي عِلْمِهِ وَعَاشَ مَعَهُ النَّاسُ فِيهِ، وَرَجُلٌ عَاشَ فِي عِلْمِهِ وَلَمْ يَعِشْ مَعَهُ فِيهِ أَحَدٌ، وَرَجُلٌ عَاشَ النَّاسُ فِي عِلْمِهِ وَكَانَ وَبَالًا عَلَيْهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابومسلم خولانی رحمہ اللہ نے فرمایا: علماء کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ آدمی جو علم میں زندگی بسر کرے اور اسی میں اس کے ساتھ دوسرے لوگ زندگی گزاریں، دوسرا وہ شخص جو خود تو علمی دنیا میں رہے لیکن اس کے ساتھ اور کوئی نہ ہو، تیسرا وہ شخص کہ لوگ اس کے علم سے فائدہ اٹھائیں اور (وہ خود بےعمل ہو) علم اس پر وبال ہو گا۔