حدیث نمبر: 368
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زرٍّ، قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ ؟، قُلْتُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ ؟، قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: "إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، رِضًا بِمَا يَطْلُبُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
ذِرّ سے مروی ہے کہ میں صفوان بن عسال مرادی کے پاس گیا (کیونکہ) میں ان سے جرابوں پر مسح کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا، انہوں نے فرمایا: تمہیں میرے پاس کیا چیز لائی ہے؟ میں نے کہا: علم کی تلاش، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے عرض کیا: ضرور سنایئے، تو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک فرشتے علم طلب کرنے والے کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، جو وہ طلب کر رہا ہے اس سے پسندیدگی کے طور پر۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 361 سے 368)
ان تمام روایات سے علم حاصل کرنے کی ترغیب اور عالمِ دین کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
ان تمام روایات سے علم حاصل کرنے کی ترغیب اور عالمِ دین کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 905 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
905- زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: تم کس لیے آئے ہو؟ میں نے عرض کی: علم کے حصول کے لیے۔ ا نہوں نے فرمایا: طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر فرشتے اپنے پر اس کے لیے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے عرض کی: پاخانے اور پیشاب کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ ایک ایسے فرد ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھتے ہیں، تو میں آپ سے اس بارے میں دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:905]
فائدہ:
اس حدیث میں طالب علم کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ فرشتے اس کے لیے پر بچھاتے ہیں۔، نیز موزوں پر مسح کرنا ثابت ہے، مسافر تین دن اور تین راتوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہر اس نیند سے وضوٹوٹ جا تا ہے جس کو نیند کہا جا سکتا ہے، خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، کیونکہ اس حدیث میں نیند کا ذکر پیشاب اور پاخانے کے ساتھ کیا گیا ہے، جس طرح پیشاب اور پاخانہ تھوڑا خارج ہو یا زیادہ، اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح نیند تھوڑی ہو یا زیادہ اس سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ نیز جس بھی حالت میں نیند آ جائے، وضو ٹوٹ جاتا ہے، جس طرح پیشاب اور پاخانہ جس حالت میں بھی نکل جائے، وضو ٹوٹ جا تا ہے۔
اس حدیث میں طالب علم کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ فرشتے اس کے لیے پر بچھاتے ہیں۔، نیز موزوں پر مسح کرنا ثابت ہے، مسافر تین دن اور تین راتوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہر اس نیند سے وضوٹوٹ جا تا ہے جس کو نیند کہا جا سکتا ہے، خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، کیونکہ اس حدیث میں نیند کا ذکر پیشاب اور پاخانے کے ساتھ کیا گیا ہے، جس طرح پیشاب اور پاخانہ تھوڑا خارج ہو یا زیادہ، اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح نیند تھوڑی ہو یا زیادہ اس سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ نیز جس بھی حالت میں نیند آ جائے، وضو ٹوٹ جاتا ہے، جس طرح پیشاب اور پاخانہ جس حالت میں بھی نکل جائے، وضو ٹوٹ جا تا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 904 سے ماخوذ ہے۔