حدیث نمبر: 36
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ وَيَخْطُبُ إِلَيْهِ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: أَلَا نَجْعَلُ لَكَ عَرِيشًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَرَاكَ النَّاسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَتُسْمِعُ مِنْ خُطْبَتِكَ ؟، قَالَ: "نَعَمْ"، فَصُنِعَ لَهُ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ، هُنَّ اللَّوَاتِي عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ وَوُضِعَ فِي مَوْضِعِهِ الَّذِي وَضَعَهُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْمِنْبَرَ مَرَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا جَاوَزَهُ، خَارَ الْجِذْعُ حَتَّى تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ حَتَّى سَكَنَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَكَانَ إِذَا صَلَّى، صَلَّى إِلَيْهِ فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ أَخَذَ ذَلِكَ الْجِذْعَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى بَلِيَ فَأَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا.
محمد الیاس بن عبدالقادر

طفیل نے روایت کیا اپنے والد سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہ جب مسجد (نبوی) کی چھت تنوں پر تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے کے پاس نماز پڑھتے اور اس کا سہارا لے کر خطبہ دیتے تھے، آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا ہم آپ کے لئے بیٹھنے کی جگہ بنا دیتے ہیں جس پر آپ کھڑے ہوں اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور خطبہ بھی سن سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی چنانچہ تین سیڑھی کا منبر بنایا گیا، اور جہاں آپ نے حکم دیا وہ منبر رکھ دیا گیا، اور جب رسول اللہ ن صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس منبر کی طرف جانے لگے اور اس تنے کے پاس سے گزرے تو وہ بھینسے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا، آپ منبر کی طرف تشریف لے گئے، آپ نماز اسی تنے کے پاس پڑھتے تھے اور جب مسجد نبوی کی ترمیم ہوئی تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اس تنے کو لے گئے اور وہ انہیں کے پاس رہا یہاں تک کہ بوسیدہ ہو گیا اور اسے دیمک نے کھا لیا اور وہ ریزہ ریزہ ہو گیا۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 36
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل، [مكتبه الشامله نمبر: 36]» ¤ اس واقعے کی سند حسن درجے کو پہنچتی ہے اور اسے امام احمد نے [مسند أحمد 138/5] اور [ابن ماجه 1414] وبیہقی نے [دلائل النبوة 306] میں ذکر کیا ہے۔
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1414

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1414 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´منبر رسول پہلے کیسے بنا؟`
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مسجد چھپر کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف نماز پڑھتے تھے، اور اسی تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز بنائیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پھر اس شخص نے تین سیڑھیاں بنائیں، یہی منبر کی اونچائی ہے، جب منبر تیار ہو گیا، تو لوگوں نے اسے اس مقام پہ رکھا جہاں اب ہے، جب نبی اکرم صلی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1414]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1(خطبہ کھڑے ہوکر دینا مسنون ہے۔

(2)
خطبہ منبر پر دینا چاہیے۔

(3)
بڑھئی کا پیشہ ایک جائز پیشہ ہے۔

(4)
بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک انصاری خاتون سے کہا تھا کہ اپنے غلام سے منبر بنوا دو اس نے بنوا دیا۔
ممکن ہے پہلے کسی مرد نے یہ تجویز پیش کی ہو۔
اس کے بعد اس غلام سے کہا گیا ہو۔
اور بعد میں رسول اللہﷺ نے خود بھی انصاری خاتون کویاد دہانی کرادی ہو۔
واللہ اعلم۔

(5)
امام اور قائد کومتبعین کی اچھی رائے قبول کرنی چاہیے۔

(6)
جب منبر پہلے پہل بنایا گیا تو اس کے تین درجے تھے۔
نبی کریمﷺ کے بعد اس کے نیچے مذید درجات کا اضافہ کرکے اسے مزید بلند کردیا گیا۔

(7)
بظاہر بے جان نظرآنے والی چیزوں میں شعور اور احساس موجود ہے۔
لیکن ہم اسے محسوس نہیں کرسکتے۔

(8)
کھجور کے تنے کا اس آواز سے رونا کہ سب لوگ سنیں۔
ایک معجزہ ہے۔

(9)
رسول للہ ﷺ سے تعلق رکھنے والی اشیاء کوتبرک کےطور پرمحفوظ رکھنادرست ہے۔
بشرط یہ کہ اس نسبت کی صحت کایقین ہو۔

(10)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین مثلا شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے حسن اور الموسوعۃ الحدیثیۃ کے محققین نے اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔
نیز انھوں نے کافی تفصیل سے اس روایت کى بابت لکھا ہے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 172، 171/35)
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1414 سے ماخوذ ہے۔