حدیث نمبر: 3521
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَحْسَنُ صَوْتًا لِلْقُرْآنِ، وَأَحْسَنُ قِرَاءَةً ؟ قَالَ: "مَنْ إِذَا سَمِعْتَهُ يَقْرَأُ، أُرِيتَ أَنَّهُ يَخْشَى اللَّهَ"، قَالَ طَاوُسٌ: وَكَانَ طَلْقٌ كَذَلِكَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

طاؤس رحمہ اللہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا آدمی قرآن کے لئے اچھی آواز والا ہے؟ یا اچھی قراءت کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: ”جس کو تم جب پڑھتے ہوئے سنو تو ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈر رہا ہے۔“ طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: طلق ایسے ہی تھے۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 3520)
مقصد یہ کہ کس شخص کی آواز یا قراءت اچھی مانی جائے گی؟ فرمایا: جس کی تلاوت سے الله کا ڈر پیدا ہو۔
یہ بھی وارد ہے کہ قرآن کو عرب کے لب و لہجے اور ان کی آواز سے پڑھو، اور گا گا کر گانے کی آواز سے پڑھنے کی ممانعت ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3521
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف عبد الكريم وهو: ابن أبي المخارق، [مكتبه الشامله نمبر: 3532]
تخریج حدیث عبدالکریم بن ابی المخارق کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 9694] ، [فضائل القرآن لأبي عبيد، ص: 165] ، [حلية الأولياء 19/4] ، [الطبراني فى الكبير 7/11، 10852] ، [ابن كثير فى البداية 243/9] و [المرشد الوجيز لابن شامه، ص: 199]