حدیث نمبر: 350
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا، وَلَا تَغْدُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ، فَإِنَّ مَا بَيْنَ ذَلِكَ جَاهِلٌ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَبْسُطُ أَجْنِحَتَهَا لِلرَّجُلِ غَدَا يَبْتَغِي الْعِلْمَ مِنْ الرِّضَاءِ بِمَا يَصْنَعُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

ہارون بن رباب نے کہا سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: یا عالم بنو یا متعلم، ان دونوں کے درمیانی نہ بنو اس لئے کہ ان دونوں کے درمیان (کے لوگ) جاہل ہیں۔ بیشک فرشتے ایسے آدمی کے فعل سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں جو علم حاصل کرنے کے لئے نکلتا ہے۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 350
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): رجاله ثقات غير أنه منقطع هارون بن رئاب لم يدرك ابن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 351]
تخریج حدیث اس اثر کی سند کے سب رواة ثقات ہیں، لیکن ہارون بن رباب نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، اس لیے یہ روایت منقطع ہے۔ دیکھئے: [المعرفة والتاريخ 399/3] ، [جامع بيان العلم 146] اس کا شاہد صحیح موجود ہے۔ دیکھئے: اثر رقم (254)۔