حدیث نمبر: 3494
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَا: "مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ، وَالْقِيرَاطُ مِنْ الْقِنْطَارِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَاكْتَنَزَ مِنْ الْأَجْرِ مَا شَاءَ اللَّهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا تمیم داری اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہما دونوں نے کہا: جس شخص نے ایک رات میں ہزار آیات پڑھیں اس کے لئے ایک قنطار (اجر و ثواب) لکھا گیا اور اس قنطار کا قیراط دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کے قنطار سے بہتر ہے، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ جتنا چاہے گا وہ شخص اجر حاصل کرے گا۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 3486 سے 3494)
قیراط چھوٹا پیمانہ اور قنطار بہت بڑے پیمانے کو کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3494
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف ولكن الحديث حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3505]
تخریج حدیث اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن یہ اثر موقوفاً حسن ہے، جو پیچھے بھی متعدد بار گذر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: [الطبراني فى الكبير 50/2-51، 1253] و [الأوسط 8446]