حدیث نمبر: 349
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "سَتَكُونُ فِتَنٌ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، إِلَّا مَنْ أَحْيَاهُ اللَّهُ بِالْعِلْمِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوامامۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اتنے فتنے رونما ہوں گے جس میں صبح کو آدمی مومن ہو گا تو شام میں کافر ہو جائے گا، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ علم کے ساتھ زندہ رکھے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 341 سے 349)
یعنی علم کی وجہ سے انسان فتنوں سے محفوظ رہے گا، اور فتنوں سے مراد ہر قسم کے فتنے ہیں جو دین، ایمان اور عقیدے سے بھی تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا انسان کو کتاب و سنّت کا علم ضرور حاصل کرنا چاہئے۔
یعنی علم کی وجہ سے انسان فتنوں سے محفوظ رہے گا، اور فتنوں سے مراد ہر قسم کے فتنے ہیں جو دین، ایمان اور عقیدے سے بھی تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا انسان کو کتاب و سنّت کا علم ضرور حاصل کرنا چاہئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3954 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´(امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عنقریب کئی فتنے ظاہر ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا مگر جسے اللہ تعالیٰ علم کے ذریعہ زندہ رکھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3954]
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عنقریب کئی فتنے ظاہر ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا مگر جسے اللہ تعالیٰ علم کے ذریعہ زندہ رکھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3954]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ روایت آخری جملے (إِلَّا مَنْ أَحْياَءَ اللهُ بِالعِلم)
مگر جسےا للہ علم کے ذریعے زندہ رکھے کے سوا باقی صحیح ہے نیز اس حدیث کی بابت دیگر محققین کی یہی رائے معلوم ہوتی ہے۔ دیکھیے: (ضعيف سنن ابن ماجة للألباني، رقم: 790 طبع مكتبة المعارف، الرياض)
بنابریں مذکورہ روایت آخری جملے کے سوا صحیح ہے۔
واللہ اعلم۔
(2)
مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دینا نبی ﷺ کا معجزہ اور آپﷺ کی نبوت کی دلیل ہے۔
(3)
فتنوں کے بارے میں خبردار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان حالات میں اپنے ایمان کو محفوظ رکھنے کا زیادہ خیال رکھیں۔
(4)
بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان انھیں معمولی سمجھتا ہے حالانکہ وہ اسلام سے خارج کردینے والے ہوتے ہیں اس لیے کسی بھی گناہ کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ روایت آخری جملے (إِلَّا مَنْ أَحْياَءَ اللهُ بِالعِلم)
مگر جسےا للہ علم کے ذریعے زندہ رکھے کے سوا باقی صحیح ہے نیز اس حدیث کی بابت دیگر محققین کی یہی رائے معلوم ہوتی ہے۔ دیکھیے: (ضعيف سنن ابن ماجة للألباني، رقم: 790 طبع مكتبة المعارف، الرياض)
بنابریں مذکورہ روایت آخری جملے کے سوا صحیح ہے۔
واللہ اعلم۔
(2)
مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دینا نبی ﷺ کا معجزہ اور آپﷺ کی نبوت کی دلیل ہے۔
(3)
فتنوں کے بارے میں خبردار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان حالات میں اپنے ایمان کو محفوظ رکھنے کا زیادہ خیال رکھیں۔
(4)
بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان انھیں معمولی سمجھتا ہے حالانکہ وہ اسلام سے خارج کردینے والے ہوتے ہیں اس لیے کسی بھی گناہ کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3954 سے ماخوذ ہے۔