سنن دارمي
من كتاب فضائل القرآن— قرآن کے فضائل
باب مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ: باب: جو شخص سو آیات پڑھ لے اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3482
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک رات میں سو آیات پڑھیں اس کے لئے ایک رات کا قنوت لکھا جائے گا۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3477 سے 3482)
قنت کے معنی اطاعت کرنا، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنا، اور عاجزی و گریہ زاری کرنا ہے، اور قانتین کا مطلب اطاعت گذار اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے والے ہیں۔
قرآن پاک میں ہے: «﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾ [البقرة: 238]» یعنی اللہ کے سامنے (نماز میں) خاموشی سے کھڑے رہو، اور مؤمنین کی ایک صفت «﴿وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ﴾ [الأحزاب: 35]» بھی ہے۔
قنت کے معنی اطاعت کرنا، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنا، اور عاجزی و گریہ زاری کرنا ہے، اور قانتین کا مطلب اطاعت گذار اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے والے ہیں۔
قرآن پاک میں ہے: «﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾ [البقرة: 238]» یعنی اللہ کے سامنے (نماز میں) خاموشی سے کھڑے رہو، اور مؤمنین کی ایک صفت «﴿وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ﴾ [الأحزاب: 35]» بھی ہے۔