سنن دارمي
من كتاب فضائل القرآن— قرآن کے فضائل
باب في فَضْلِ: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ}: باب: «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3459
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ"، قَالَ: جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي، قَالَ: "فَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ، فَاقْرَأْ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنْ الشِّرْكِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
فروہ بن نوفل نے اپنے والد (سیدنا نوفل رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) فرمایا: کیا چیز تم کو (میرے پاس) لے کر آئی؟ عرض کیا: میں اس لئے حاضر ہوا کہ آپ مجھ کو کوئی ایسی چیز یاد کرا دیں جو میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بستر پر لیٹ جاؤ تو «﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾» پڑھ لو اور اس کے اختتام پر سو جاؤ کیونکہ یہ سورت شرک سے براءت ہے۔“ (یعنی شرک سے بری کرنے والی ہے)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3458)
اس حدیث سے سورۃ الکافرون کی فضیلت معلوم ہوئی، اس وجہ سے کہ اس میں معبودانِ باطل کی عبادت کا صریح انکار اور اپنے دین پر قائم رہنے کا اقرار ہے۔
اس حدیث سے سورۃ الکافرون کی فضیلت معلوم ہوئی، اس وجہ سے کہ اس میں معبودانِ باطل کی عبادت کا صریح انکار اور اپنے دین پر قائم رہنے کا اقرار ہے۔