حدیث نمبر: 3451
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "مَنْ قَرَأَ ( يس ) حِينَ يُصْبِحُ، أُعْطِيَ يُسْرَ يَوْمِهِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَرَأَهَا فِي صَدْرِ لَيْلِهِ، أُعْطِيَ يُسْرَ لَيْلَتِهِ حَتَّى يُصْبِحَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جو صبح کے وقت سورہ یس پڑھے شام تک اس کے لئے آسانی رہے گی، اور جو رات کے شروع میں پڑھے اس کو صبح تک کے لئے آسانی دی جائے گی۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3451
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده حسن وهو موقوف على ابن عباس، [مكتبه الشامله نمبر: 3462]
تخریج حدیث یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، لیکن سند اس کی حسن ہے۔ [ذكره السيوطي فى الدر المنثور 257/5 ، واحاله إلى الدارمي]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
سورہ یٰسین کی برکتیں: دن بھر اور رات بھر کی آسانیاں
اس روایت کے راویوں کا مختصر تعارف درج ذیل ہے: ➊ عمرو بن زرارہ: «ثقة ثبت» [تقريب التهذيب: 5032]

➋ عبدالوھاب الثقفی: «ثقة تغير قبل موته بثلاث سنين» [التقريب: 4261]

«لكنه ما ضرتغيره حديثه فإنه ماحدث بحديث فى زمن التغير» [ميزان الاعتدال 2/ 681]

➌ راشد بن نجیح الحمانی: «صدوق ربماأخطأ» [تقريب التهذيب: 1857]

«وحسن له البوصيري» [زوائد ابن ماجه: 3371]

یہ حسن الحدیث راوی تھے۔

➍ شہر بن حوشب مختلف فیہ راوی ہیں، جمہور محدثین نے ان کی توثیق کی ہے۔ [كما حققته فى كتابي: تخريج النهاية فى الفتن والملاحم ص 119، 120]

حافظ ابن کثیر ان کی ایک روایت کو حسن کہتے ہیں۔ [مسند الفاروق ج 1 ص 228]

میری تحقیق میں یہ راوی حسن الحدیث ہیں۔ «والله اعلم»

. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 496 اور 497) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 496 سے ماخوذ ہے۔