سنن دارمي
من كتاب فضائل القرآن— قرآن کے فضائل
باب في فَضْلِ سُورَةِ {تَنْزِيلُ} السَّجْدَةِ وَ{تَبَارَكَ}: باب: سورہ الم تنزیل السجدہ اور سورہ تبارک کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3440
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَتْنَا عَبْدَةُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: "اقْرَءُوا الْمُنَجِّيَةَ، وَهِيَ: ( الم تَنْزِيلُ )، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَؤُهَا مَا يَقْرَأُ شَيْئًا غَيْرَهَا، وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَايَا، فَنَشَرَتْ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ، وَقَالَتْ: رَبِّ اغْفِرْ لَهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَتِي، فَشَفَّعَهَا الرَّبُّ فِيهِ، وَقَالَ: اكْتُبُوا لَهُ بِكُلِّ خَطِيئَةٍ حَسَنَةً، وَارْفَعُوا لَهُ دَرَجَةً".محمد الیاس بن عبدالقادر
خالد بن معدان نے کہا: نجات دلانے والی سورة پڑھا کرو، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک آدمی اس کو پڑھا کرتا تھا، اس کے علاوہ کچھ نہ پڑھتا تھا، وہ بہت گنہگار تھا، اس سورت نے اپنے پر اس شخص پر پھیلا دیئے اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کی: اے رب! یہ آدمی میری تلاوت کثرت سے کیا کرتا تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی شفاعت قبول فرما لی اور فرمایا: اس کی ہر خطا کے بدلے میں ایک نیکی لکھو اور ایک درجہ بلند کر دو (بعض نسخ میں منجیہ کے بعد «الم تنزيل السجدة» ہے)۔ یعنی یہ سورت نجات دلانے والی ہے۔