أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: صَاحِبُ الْعِلْمِ، وَصَاحِبُ الدُّنْيَا، وَلَا يَسْتَوِيَانِ، أَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ، فَيَزْدَادُ رِضًى لِلرَّحْمَنِ، وَأَمَّا صَاحِبُ الدُّنْيَا، فَيَتَمَادَى فِي الطُّغْيَانِ"، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: كَلَّا إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى { 6 } أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى { 7 } سورة العلق آية 6-7، قَالَ: وَقَالَ الْآخَرُ: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ سورة فاطر آية 28.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو حریص آدمی کبھی اکتاتے نہیں، ایک صاحب علم، دوسرا طالب دنیا اور دونوں برابر نہیں ہو سکتے، صاحب علم اللہ کی خوشنودی میں اضافہ کرتا ہے اور صاحب دنیا سرکشی و طغیانی میں پڑا ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: « ﴿كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى ٭ أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى﴾ » [العلق: 6/96، 7] سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے، وہ اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو بےپروا (یا تونگر) سمجھتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی اور نے کہا: «﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ...﴾» [فاطر: 28/35] ”بیشک الله تعالیٰ سے اس کے عالم بندے ہی ڈرتے ہیں۔“