حدیث نمبر: 3416
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَمَّنْ سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ: "مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَعْقِلُ يَنَامُ، حَتَّى يَقْرَأَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّهُنَّ لَمِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

ابواسحاق نے اس شخص سے روایت کیا جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: میں نہیں سمجھتا کوئی آدمی جو عاقل ہو اور سورہ البقرہ کی آخری آیت پڑھے بنا سو جائے، یہ آیات عرش کے نیچے کے خزانے کی ہیں۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3416
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف فيه جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 3427]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند بھی ضعیف ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والا مجہول ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر یہ اثر موقوف ہے۔ دیکھئے: [فضائل لابن الضريس 176] ، [الدر المنثور للسيوطي 378/1]