حدیث نمبر: 3415
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ أَرْبَعَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ، وَآيَتَانِ بَعْدَ آيَةِ الْكُرْسِيِّ، وَثَلَاثًا مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، لَمْ يَقْرَبْهُ وَلَا أَهْلَهُ يَوْمَئِذٍ شَيْطَانٌ، وَلَا شَيْءٌ يَكْرَهُهُ، وَلَا يُقْرَأْنَ عَلَى مَجْنُونٍ إِلَّا أَفَاقَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جو آدمی سورہ بقرہ کی پہلی چار آیات اور آیت الکرسی اور دو آیتیں اس کے بعد اور تین آخری آیات پڑھے گا اس دن شیطان اس کے اور اس کے اہل و عیال کے قریب نہ آئے گا، اور نہ ایسی بات ہو گی جو اس کو ناپسند ہو، اور یہ آیات اگر پاگل پر بھی پڑھی جائیں گی تو اس کو افاقہ ہو جائے گا۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3415
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده منقطع كسابقه، [مكتبه الشامله نمبر: 3426]
تخریج حدیث اس اثر میں بھی پچھلی روایت کی طرح انقطاع ہے، اور اس کو ابن الضریس نے [فضائل القرآن 166] میں اور بیہقی نے [شعب الإيمان 2412] میں روایت کیا ہے، اور یہ بھی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔