سنن دارمي
من كتاب فضائل القرآن— قرآن کے فضائل
باب مَثَلِ الْمُؤْمِنِ الذي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ: باب: اس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "مِنَ النَّاسِ مَنْ يُؤْتَى الْإِيمَانَ وَلَا يُؤْتَى الْقُرْآنَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَلَا يُؤْتَى الْإِيمَانَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَلَا الْإِيمَانَ، ثُمَّ ضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا، قَالَ: فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ الْإِيمَانَ وَلَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ، فَمَثَلُهُ مَثَلُ التَّمْرَةِ حُلْوَةُ الطَّعْمِ، لَا رِيحَ لَهَا، وَأَمَّا مَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ، وَلَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ، فَمَثَلُ الْآسَةِ طَيِّبَةُ الرِّيحِ، مُرَّةُ الطَّعْمِ، وَأَمَّا الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ، فَمَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ، طَيِّبَةُ الرِّيحِ، حُلْوَةُ الطَّعْمِ، وَأَمَّا الَّذِي لَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ وَلَا الْإِيمَانَ، فَمَثَلُهُ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ، مُرَّةُ الطَّعْمِ، لَا رِيحَ لَهَا".سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کو ایمان دیا جاتا ہے لیکن قرآن نہیں دیا جاتا ہے، اور ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کو قرآن ملتا ہے ایمان نہیں ملتا، اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن کو قرآن اور ایمان دونوں ملتے ہیں، اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن کو نہ ایمان دیا جاتا ہے اور نہ قرآن۔ پھر ان کی مثال دیتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جس کو ایمان دیا گیا اور قرآن نہیں ملا اس کی مثال کھجور کی سی ہے جس کا ذائقہ میٹھا لیکن خوشبو نہیں ہوتی، اور جس کو قرآن ملا ایمان نہیں ملا اس کی مثال دوا کی سی ہے جس کی مہک اچھی ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، اور جسے قرآن و ایمان دونوں ملے اس کی مثال نارنگی (میٹھا لیموں) کی سی ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے، اور جس کو نہ قرآن ملا نہ ایمان اس کی مثال اندرائن کی سی ہے جس کا مزہ کڑوا اور کوئی خوشبو نہیں ہوتی۔