حدیث نمبر: 3379
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَالَ بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت برا ہے تم میں سے کسی کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) مجھے بھلا دیا گیا، اور قرآن مجید کا پڑھنا جاری رکھو کیونکہ انسان کے دلوں میں دور ہو جانے میں وہ اونٹ کے بھاگنے سے بڑھ کر ہے۔“

وضاحت:
(تشریح احادیث 3372 سے 3379)
«نَسِيْتُ» یعنی میں بھول گیا۔
یہ کہنے سے اس لئے منع کیا گیا کہ اس عبارت سے ایسا لگتا ہے کہ بھولنا اس کا اختیاری فعل ہے، حالانکہ یہ تو الله تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، چاہے جس کے دل میں قرآن بسا دے اور جس کے دل سے چاہے اس کو مٹا دے۔
«﴿ذَلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ﴾ [الجمعة: 4]»
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3379
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3390]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5032] ، [مسلم 790] ، [ترمذي 2944] ، [نسائي 942] ، [أبويعلی 5136] ، [ابن حبان 762] ، [الحميدي 91] و [موارد الظمآن 1784]