حدیث نمبر: 3376
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: "مَا جَالَسَ الْقُرْآنَ أَحَدٌ فَقَامَ عَنْهُ، إِلَّا بِزِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ، ثُمَّ قَرَأَ: وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلا خَسَارًا سورة الإسراء آية 82.
محمد الیاس بن عبدالقادر

قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: قرآن کے لئے جو بھی بیٹھا، پھر کھڑا ہوا تو وہ زیادتی یا نقصان لے کر اٹھے گا، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: «﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا﴾» [الاسراء: 82/17] یعنی ”یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے، ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔“

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3376
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير بن أبي عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 3387]
تخریج حدیث محمد بن کثیر بن ابی عطا کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، اور قتادہ رحمہ اللہ پر موقوف ہے۔ دیکھئے: [فضائل أبوعبيد، ص: 56-57]