حدیث نمبر: 3364
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّتَكَ سَتُفْتَتَنُ مِنْ بَعْدِكَ، قَالَ: فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُئِلَ: مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا ؟ قَالَ: "الْكِتَابُ الْعَزِيزُ الَّذِي لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ سورة فصلت آية 42 مَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ، فَقَدْ أَضَلَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ وَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ مِنْ جَبَّارٍ فَحَكَمَ بِغَيْرِهِ، قَصَمَهُ اللَّهُ، هُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ، وَالنُّورُ الْمُبِينُ، وَالصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ، فِيهِ خَبَرُ مَنْ قَبْلَكُمْ، وَنَبَأُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ، وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ، وَهُوَ الَّذِي سَمِعَتْهُ الْجِنُّ فَلَمْ تَتَنَاهَ أَنْ قَالُوا: إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا سورة الجن آية 1، وَلَا يَخْلَقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ، وَلَا تَنْقَضِي عِبَرُهُ، وَلَا تَفْنَى عَجَائِبُهُ"، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ لِلْحَارِثِ: خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

حارث الاعور سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: آپ کے بعد ہو سکتا ہے آپ کی امت فتنوں میں مبتلا ہو جائے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ان فتنوں سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے نکلنے کا راستہ الله تعالیٰ کی عزت والی کتاب ہے (جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا، نہ اس کے آگے سے، نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے اللہ کی طرف سے ...... فصلت 42/41)، جو اس کے علاوہ (کسی کتاب میں) ہدایت تلاش کرے گا الله تعالیٰ اس کو گمراہ کر دے گا، جو اس امر کا والی ہو اور اس کے بغیر فیصلہ کرے اللہ تعالیٰ اس کو توڑ ڈالے گا، وہ دانائی والا ذکر ہے، نور مبین ہے اور صراط مستقیم (سیدھا راستہ) ہے، اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبر اور تمہارے بعد آنے والوں کی اطلاع ہے، اور یہ تمہارے درمیان حکم (فیصلہ دینے والا) ہے، دوٹوک ہے، ہنسی مذاق نہیں ہے، یہ قرآن ایسا ہے جس کو جنات نے سنا توہ یہ کہنے سے نہ رک سکے ”ہم نے ایسا عجیب قرآن سنا ہے جو راہِ حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ “ [الجن 1/72]
، جو بار بار پڑھنے سے پرانا نہیں ہوتا (یعنی اس سے آدمی اکتاتا نہیں ہے)، اس کی عبرتیں ختم نہیں ہوتی ہیں نہ اس کے عجائب تمام ہوتے ہیں۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حارث اعور سے کہا: اس کو یاد کر لو اے اعور۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3364
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3375]
تخریج حدیث حارث بن عبداللہ الاعور کی وجہ سے اس کی سند میں کلام ہے، لیکن دیگر اسانید سے حسن کے درجہ کو پہنچتی ہے۔ دیکھئے: [الفقيه والمتفقه للخطيب 55/1] ، [أبوالفضل عبدالرحمٰن بن أحمد الرازى فى فضائل القرآن 35]