سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب إِذَا أَوْصَى بِشَيْءٍ في سَبِيلِ اللَّهِ: باب: جب کوئی آدمی فی سبیل اللہ کسی چیز کی وصیت کرے ؟
حدیث نمبر: 3336
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى هُوَ ابْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ: "أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَوْصَى إِلَيَّ وَجَعَلَ نَاقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَيْسَ هَذَا زَمَانًا يُخْرَجُ إِلَى الْغَزْوِ، فَأَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي الْحَجِّ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع سے مروی ہے کہ ایک آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا کہ ایک شخص نے ایک اونٹنی کو اللہ کے راستے میں دینے کی مجھے وصیت کی ہے، اور یہ جہاد کا زمانہ بھی نہیں ہے، کیا میں اس کو حج کے لئے بھیج سکتا ہوں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حج اور عمرہ فی سبیل اللہ میں شامل ہیں۔