سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب مَنْ قَالَ لاَ يَجُوزُ: باب: جن علماء نے کہا بچے کی وصیت قابل عمل نہ ہو گی
حدیث نمبر: 3326
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "لَا يَجُوزُ طَلَاقُ الصَّبِيِّ، وَلَا عِتْقُهُ، وَلَا وَصِيَّتُهُ، وَلَا شِرَاؤُهُ، وَلَا بَيْعُهُ، وَلَا شَيْءٌ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہ بچے کی طلاق جائز ہے نہ آزاد کرنا اور نہ اس کی وصیت، خرید و فروخت اور نہ کوئی اور چیز۔